19 مارچ 2010 - 20:30

عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر خودکش دھماکوں کی تحقیقاتی ٹیموں کو بعض ایسے شواہد ملے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ان دھماکوں میں طالبان ملوث ہوسکتے ہیں جبکہ دونوں حملہ آوروں کی شناخت بھی ہوگئی ہے جن کا تعلق جنوبی وزیرستان سے بتایا جاتا ہے ۔

ذرائع کے مطابق دھماکوں کے بعد سی آئی ڈی پولیس سندھ اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) نے مختلف مقامات سے متعدد افراد کو حراست میں لیا تھا جن سے تفتیش کے بعد بعض ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ خودکش حملوں میں طالبان ملوث ہوسکتے ہیں، جنہوں نے جمعرات 7 اکتوبر کو دھماکوں کے بعد خود بھی عبداللہ شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر خودکش حملوں کی ذمے داری قبول کرلی تھی مگر تحقیقاتی اداروں نے طالبان کے دعوے کو کلی طورپر تسلیم نہیں کیا تھا اور اپنی تحقیقات جاری رکھی تھیں۔ تاہم مختلف زاویوں سے تحقیقات اور زیر حراست افراد سے تفتیش کے بعد تحقیقاتی ٹیموں کے سامنے بعض ایسے شواہد آئے ہیں جن کی بنیاد پر کہا جارہا ہے کہ مذکورہ دھماکوں میں طالبان ملوث ہوسکتے ہیں لیکن فی الحال اس بارے میں کسی حتمی رائے کا اظہار نہیں کیا جارہا۔ ذرائع نے بتایا کہ تحقیقاتی ٹیمیں اب اسی بات کو بنیاد بناکر تفتیش کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ پولیس ذرائع نے مزید بتایا کہ تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت منگل کو اس وقت ہوئی جب حملہ آوروں کے سروں کو بادشاہ خان اور اشتیاق کی حیثیت سے شناخت کیا گیا جو صوبہ خیبر پختونخواہ سے ملحقہ قبائلی ایجنسی جنوبی وزیرستان کے رہائشی بتائے جارہے ہیں مگر تحقیقاتی ٹیموں میں شامل افسران صرف زبانی معلومات پر انحصار نہیں کر رہے بلکہ انہوں نے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر جنوبی وزیرستان سے بادشاہ خان اور اشتیاق کے ممکنہ والدین کو بلوایا ہے جن کے خون کے نمونے حاصل کر کے ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے گا جس کے بعد ہی اس کی تصدیق ہوگی کہ آیا ملنے والے سر جنوبی وزیرستان کے بادشاہ خان اور اشتیاق کے ہیں یا کسی اور کے ہیں؟!

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110